پیر 16 فروری 2026 - 05:00
جوہری مذاکرات اور جنگی تیاری

حوزہ/ ایران کے تدبر کی روشنی اور امریکہ کی دوغلی پالیسی عالمی سیاست میں بعض طرزِعمل ایسے ہوتے ہیں جو امن کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے مزید مشکوک بنا دیتے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات، مصافحے اور مفاہمت کی باتیں، اور دوسری طرف جنگی تیاریوں کی کھلی نمائش—یہی وہ تضاد ہے جو آج امریکہ کے طرزِ عمل میں نمایاں ہے، اور جس کے مقابل ایران کا مصالحانہ اور سنجیدہ رویّہ واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔

تحریر: سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I ایران کے تدبر کی روشنی اور امریکہ کی دوغلی پالیسی عالمی سیاست میں بعض طرزِعمل ایسے ہوتے ہیں جو امن کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے مزید مشکوک بنا دیتے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات، مصافحے اور مفاہمت کی باتیں، اور دوسری طرف جنگی تیاریوں کی کھلی نمائش—یہی وہ تضاد ہے جو آج امریکہ کے طرزِ عمل میں نمایاں ہے، اور جس کے مقابل ایران کا مصالحانہ اور سنجیدہ رویّہ واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔

خبری ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ کی فوج ایران کے خلاف ایسی جنگ کی تیاری کر رہی ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ طیارہ بردار بحری جہاز، ایٹمی آبدوزیں، اور سمندر کے راستے خشکی پر اترنے والی جل تھل فوج کی مشقیں اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ جنگی جنون کو بھی پوری شدت سے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ امن کی علامت ہے اور نہ ذمہ دار عالمی قیادت کی۔

اس کے برعکس ایران کا رویّہ تحمل، تدبر اور مفاہمت پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ ایران نے جوہری مسئلے پر بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا، بلکہ اپنے نمائندے مسقط بھیج کر واضح کیا کہ وہ تنازعے کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ جوہری پروگرام کے بارے میں حدود قبول کرنے پر آمادگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کشیدگی کم کرنے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچانے کا خواہاں ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران نے اپنے دفاعی اور میزائل نظام کو مذاکرات سے الگ رکھا ہے، جو کسی جارحیت کا نہیں بلکہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے فطری حق کا اظہار ہے۔ ایک خودمختار ریاست سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت بھی دوسروں کی مرضی پر قربان کر دے، دراصل مفاہمت نہیں بلکہ دباؤ اور بالادستی کی سوچ ہے۔

اسی پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے وزیرِاعظم سے ملاقات کے بعد معاہدے کی امید کا اظہار ایک تضاد بن کر سامنے آتا ہے۔ اگر واقعی معاہدہ مطلوب ہے تو پھر بیک وقت جنگی تیاریوں کا کیا جواز؟

یہ دوغلی پالیسی اعتماد کو جنم دینے کے بجائے شکوک کو بڑھاتی ہے۔

ایران کا مصالحانہ رویّہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وہ امن کو کمزوری نہیں بلکہ حکمت سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ کی جنگی تیاری اور عسکری دباؤ اس کے جنگ پسند مزاج اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔ امن دھمکیوں سے نہیں، نیت کی سچائی سے قائم ہوتا ہے۔ اگر واقعی دنیا کو خونریزی سے بچانا مقصود ہے تو اسے ایران جیسے سنجیدہ اور ذمہ دار رویّوں کی قدر کرنی ہوگی، اور امریکہ کو اپنی جنگی جنون پر مبنی دوغلی پالیسی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا ہوگی—کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا امن، امن نہیں بلکہ ایک وقفۂ جنگ ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha